24 فروری 2018 - 19:31
افغانستان میں منحوس امریکی سازش

“وہی ہاتھ جنہوں نے داعش کو تشکیل دیا اور اسے وجود دیا ـ خواہ عراق میں، خواہ شام میں ـ اور داعش کے ذریعے ان جرائم کا ارتکاب کیا، وہی پھر سرگرم ہوئے ہیں اور داعش کو منتقل کررہے ہیں، یہاں [یعنی] افغانستان میں؛ وہاں انہیں شکست کھانا پڑی، یہاں دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں” : امام خامنہ ای

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جاثیہ نیوز کے مطابق، رہبر انقلاب امام خامنہ ای نے 30 جنوری 2018 کو فقہ کے درس خارج کی ابتداء میں، افغانستان میں حالیہ دہشت گردانہ واقعات پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے فرمایا: “وہی ہاتھ جنہوں نے داعش کو تشکیل دیا اور اسے وجود دیا ـ خواہ عراق میں، خواہ شام میں ـ اور داعش کے ذریعے ان جرائم کا ارتکاب کیا، اور داعش کو وسیلہ اور اوزار قرار دیا اتنے سارے عظیم مظالم کے لئے، وہی پھر سرگرم ہوئے ہیں اور داعش کو منتقل کررہے ہیں، یہاں [یعنی] افغانستان میں؛ وہاں انہیں شکست کھانا پڑی، یہاں دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں”۔

۔۔۔۔۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکہ 17 سال قبل افغانستان میں داخل ہؤا لیکن اس ملک کے حالات آج بھی ہنگامی ہیں۔ اندرون ملک قومی اتحاد حکومت عدم استحکام کا شکار ہے، سیاسی مسابقوں میں شدت آئی ہے اور ساتھ ہی انتہاپسند قوتوں کے موقف کو تقویت ملی ہے اور اندرونی افراتفری کی کیفیت کے ساتھ ساتھ عراق اور شام میں داعش کی شکست سے اس امکان کو تقویت ملتی ہے کہ افغانستان طالبان کے دور کی طرح ایک بار پھر داعش جیسے دہشت گرد ٹولوں کے اصل اڈے میں تبدیل ہوجائے۔ یہ وہ امکان ہے جو عالمی سیاست اور سلامتی کے امور کے ماہرین کی نظروں سے چھپا ہؤا نہیں ہے۔

روسی تجزیہ نگار دمتری نرسیسوف (Dmitri Nersisov) پراودا میں لکھتے ہیں: افغانستان اور پاکستان میں امریکہ کے حالیہ اقدامات علاقے میں سلامتی کے حوالے سے افراتفری اور انارکی کی بقاء کی سازش کا تسلسل ہے۔ افغانستان کا جغرافیائی محل وقوع اس امر کے لئے بہت مناسب ہے کہ امریکہ ایران، روس اور وسطی ایشیا کے ممالک کے خلاف یہاں اپنے اڈے قائم کرے۔ افغانستان میں بحران کے اسباب کی فراہمی علاقے میں امریکہ کی مسلسل موجودگی کا بہانہ فراہم کرتی ہے اور محاذ مزاحمت اور اس کے حامیوں کے لئے مسائل پیدا کرتی ہے۔

قبل ازايں رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای نے فرمایا تھا کہ امریکہ داعش کو افغانستان منتقل کررہا ہے اور حال ہی روسی حکام نے بھی ان کے اس موقف کی تصدیق کی ہے، جبکہ افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے بھی امریکہ پر دہشت گرد ٹولوں کی حمایت کا الزام لگایا تھا۔

یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ امریکہ کے نام نہاد قومی مفادات مغربی اور جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی بقا سے وابستہ ہیں کیونکہ 2000 کے عشرے میں افغانستان اور عراق پر ہلہ بولنے کے بعد امریکہ نے اپنی خارجہ پالیسی عراق میں “دہشت گردی کے خاتمے کے لئے تیس برسوں تک قیام” پر استوار کی تھی؛ لیکن عراق اور شام میں داعش کو منہ کی کھانا پڑی جس کی وجہ سے عراق میں امریکہ کی مداخلت پر مبنی حکمت عملی متنازعہ بن کر رہ گئی لہذا امریکہ اس وقت افغانستان اور شام میں نیا بحران کھڑا کرنے کے لئے سرگرم ہوچکا ہے جس سے جہاں شام میں پرانے حلیف ایک دوسرے کے مقابلے پر آنا شروع ہوچکے ہیں [ترکی ـ امریکہ] اور شام میں ختم ہوتی ہوئی خانہ جنگی کو ایک بار پھر ہوا دی جاری ہے وہاں افغانستان میں مزید امریکی شرانگیزیوں کی وجہ سے یہ ملک عدم استحکام کا شکار ہوگا اور روس، پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کو بھی ان شیطانی سازشوں کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲